Wednesday, 11 March 2020

کراچی میں گرنے والی عمارت میں نوجوان لڑکی

کراچی میں گرنے والی عمارت میں نوجوان لڑکی چند منٹ پہلے کیا کرنے پہنچی تھی ؟ جان کرآپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جائیں گے


کراچی کے علاقے گلبہار میں عمارت زمین بوس ہونے کی وجہ سے اب تک 16 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ 36 زخمی ہیں تاہم ریسکیو آپریشن جاری ہے ۔اسی عمارت میں کے ملبے میں دبنے والی خیرالنساءچند منٹ پہلے ہی آئی اور اس نے اپنی بہن کا کلینک کھولا تھا کہ عمار نیچے آن پڑی ۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق خیرالنسا کی بہن ڈاکٹر زیتون کچھ تاخیر کی وجہ سے حادثے سے محفوظ رہیں، عمارت کے ارد گرد روتی ہوئی ایک خاتون نے بتایا کہ ان کی صاحبزادی خیرالنسا کی زندگی کے لیے پورا خاندان رو رو کر دعائیں کررہا ہے، خیرالنسا نے عمارت کے گراو¿نڈ فلور پر اپنی بہن ڈاکٹر زیتون کا کلینک کھولا ہی تھا کہ عمارت زمین بوس ہوگئی جبکہ اس کی بہن ڈاکٹر زیتوں کچھ دیر تاخیر کے باعث حادثے سے محفوظ رہیں۔انھوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی خیرالنسا نے اپنی بہن ہومیو پیتھک ڈاکٹر زیتون کا کلینک کھولا تھا، خیرالنسا کا اسی عمارت کی پہلی منزل پر بیوٹی پارلر تھا مگر جب کوئی کام آتا تھا تب ہی وہ اوپر جاتی تھی۔
میئر وسیم اختر نے رضویہ کے علاقے گلبہار پھول والی گلی کادورہ کیا، میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے کاآپریشن ا?ج مکمل کرلیا جائیگا ، میئر نے کہا کہ وہ لکھ لکھ کر تھک چکے ہیں کہ آپ غیر قانونی تعمیرات کیلئے اجازت دے رہے ہیں لیکن کوئی سنتاہی نہیں ہے، ضرورت پڑی تو متاثرین کے لیے متبادل رہائش کا انتظام کریں گے۔
زمین بوس ہونے والی عمارت کے مالک جاوید خان کی اسی علاقے میں ایک اور عمارت بھی ہے اور اس وقت بھی عمارت کی چھت پر چوتھی منزل کی تعمیرات جاری ہیں، اس عمارت کا نام ڈاکٹر جمال فاطمہ آرکیڈ ہے جس کے گراو¿نڈ فلور پر دکانیں ہیں۔عمارت کے مالک جاوید نے بیٹے جبران کی شادی کے لیے پینٹ ہاو¿س بنایا تھا۔جاوید خان کے جبران کے علاوہ دو اور بیٹے جنید اور جہانزیب بھی جو حادثے کے وقت عمارت میں ہی موجود تھے البتہ جبران گھر پر موجود نہیں تھا۔

No comments:

Post a Comment